یاسر حسین نے بھی دیا عاصم جوفا کی طرح حب الوطنی کا ثبوت اپنی اہلیہ اقراء عزیزکی مدد سے کئے ڈاکٹرز کیلئے میڈیکل سوٹس تیار
ٹیلی ویژن کی مشہور شخصیت نے عوام کو بتایا"مجھے سلائی کرنی نہیں آتی لیکن اقرا عزیز میری بیوی نے مجھے سلائی کرنے کا طریقہ سکھایا اور ہم دونوں نے مل کراس کام سر انجام دینے کی کوشش کی اور اور اس کام کو سرانجام دینے کے لیے انہوں نے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کے ساتھ مل کر اس کام کا آغاز کیا، ان دونوں نے اس مشکل گھڑی میں حب الوطنی کا ثبوت دے دیا۔یاسر نے ہاتھ میں سوٹ پکڑ کر بتایا کہ پہلا سوٹ عاصم جوفا نے تیار کیا اور دوسرا قدم ہم نے اٹھایا اور اس سوٹ کو تیار کرنے میں ہم نےعاصم جوفا سے اس سوٹ کو تیار کرنے والے کپڑے کے بارے میں معلومات لیں عاصم نے ہمیں سوٹ کیلئے یہ عمدہ کپڑا فراہم کیااور ہم نے اس پر کام شروع کر دیا ۔
ہماری اپنی عوام سے گزارش ہے کہ آپ ملک وقوم کے ان جانباز ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی خدمات کو سراہنے کے ساتھ ان ڈاکٹرز کیلئے اس لباس کو سلائی کرنے کی ہدایت کی- حال ہی میں یاسر اور اقراء کو اپنے گھر کے فرش کی صفائی میں واضح پایا گیا دونوں نے ملکر گھر کی صفائی کی اور پھر ان کے گھر کی صفائی کرنے والی خاتون جب اپنے سابقہ مہینے کی تنخواہ لینے آئی تو اس نے اقراء سے آنے والے مہینے کی ایڈوانس تنخواہ کا تقاضا کیا جس پر اقراء یاسر نے کہا کہ وہ اس کو پوری تنخواہ دیں گی مگر جب لاک ڈاؤن ختم ہو گا تو اسے یہ فر ش اسی طرح صاف اور چمکدار چاہیئیں تو اس نے جواب دیا کہ آدمی کا ہاتھ آدمی کا ہاتھ ہے جس میں اس نے تمام مردوں کو متوجہ کرنا چاہا ہے کہ مردوں کو بھی اسی طرح خدمت اور ہاتھ بٹانا چاہئے جیسے عورت ہر مرد کے ہر کام میں اس کا ساتھ دیتی ہے -یہ مردوں کا معاشرہ ہمارے آقا نے حالانکہ مرد اور عورت کے کام میں کوئی تفریق نہیں کی ہے مگر ہمارے ہاں کچھ مرد اس بات کو سمجھنے کیلئے تیار ہی نہیں وہ عورت پر بس حکم چلانا جانتے ہیں جو کہ ہمارے نبی اور ہمارے رب العزت کو بلکل پسند نہیں -یاسر اور اقراء نے معاشرے میں رہنے والے مردوں کو پیغام دیا ہے کہ ملکوقوم ک کام آئیں اور ڈاکٹرز کی مدد کریں کپڑا لیں اور ہسپتالوں میں کام کرنے والے لوگوں کے لئے حفاظتی سوٹ تیار کریں اور ان تک پہنچائیں تاکہ مزید لوگ اس وبا کا شکار نہ ہوں اور ہم جلد ہی پہلے کی طرح خوشحال نظر آئیں.
ہماری اپنی عوام سے گزارش ہے کہ آپ ملک وقوم کے ان جانباز ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی خدمات کو سراہنے کے ساتھ ان ڈاکٹرز کیلئے اس لباس کو سلائی کرنے کی ہدایت کی- حال ہی میں یاسر اور اقراء کو اپنے گھر کے فرش کی صفائی میں واضح پایا گیا دونوں نے ملکر گھر کی صفائی کی اور پھر ان کے گھر کی صفائی کرنے والی خاتون جب اپنے سابقہ مہینے کی تنخواہ لینے آئی تو اس نے اقراء سے آنے والے مہینے کی ایڈوانس تنخواہ کا تقاضا کیا جس پر اقراء یاسر نے کہا کہ وہ اس کو پوری تنخواہ دیں گی مگر جب لاک ڈاؤن ختم ہو گا تو اسے یہ فر ش اسی طرح صاف اور چمکدار چاہیئیں تو اس نے جواب دیا کہ آدمی کا ہاتھ آدمی کا ہاتھ ہے جس میں اس نے تمام مردوں کو متوجہ کرنا چاہا ہے کہ مردوں کو بھی اسی طرح خدمت اور ہاتھ بٹانا چاہئے جیسے عورت ہر مرد کے ہر کام میں اس کا ساتھ دیتی ہے -یہ مردوں کا معاشرہ ہمارے آقا نے حالانکہ مرد اور عورت کے کام میں کوئی تفریق نہیں کی ہے مگر ہمارے ہاں کچھ مرد اس بات کو سمجھنے کیلئے تیار ہی نہیں وہ عورت پر بس حکم چلانا جانتے ہیں جو کہ ہمارے نبی اور ہمارے رب العزت کو بلکل پسند نہیں -یاسر اور اقراء نے معاشرے میں رہنے والے مردوں کو پیغام دیا ہے کہ ملکوقوم ک کام آئیں اور ڈاکٹرز کی مدد کریں کپڑا لیں اور ہسپتالوں میں کام کرنے والے لوگوں کے لئے حفاظتی سوٹ تیار کریں اور ان تک پہنچائیں تاکہ مزید لوگ اس وبا کا شکار نہ ہوں اور ہم جلد ہی پہلے کی طرح خوشحال نظر آئیں.

Comments
Post a Comment