حال ہی میں وائس آف ایشیا کی ایک رپورٹ شائع کی گی جس میں تحقیق کے مطابق نوجوان لڑکیوں کی وقت کےساتھ اداسی، مایوسی اور بہت زیادہ بے زاری انھیں وقت سے پہلے بوڑھا کر سکتی ہے۔رسالہ نفسیات جرنل مالیکیولر سائکائیٹری میں چھپنے والی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غمگین رہنے والی لڑکیاں یا پھر ڈپریشن کی نسل در نسل رجحان رکھنے والی لڑکیوں کا تناؤ کے حالات میں ردعمل عام لڑکیوں سےبہت مختلف ہوتا ہے۔اس تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذہنی بگاڑ کی ایک کیفیت ڈپریشن یا افسردگی کا شکار رہنے والی لڑکیاں اپنی ہم عمر لڑکیوں کے مقابلے میں وقت سے پہلے عمر میں بڑی دکھائی دینے لگتی ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ تناؤ کی کیفیت میں افسردہ رہنے والی ان لڑکیوں کے جسم میں دباؤ پیدا کرنے والے ہارمونز "کارٹی سول" کی زیادہ پیداوار ہوتی ہے۔تحقیق سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ ایسی لڑکیاں جن میں ڈپریشن موروثی تھا ان کے کروموسوم (ڈی این اے) کے آخری سروں پر واقع چاروں حفاظتی سرے(TELOMERES) تلومر کی لمبائی اپنی ہم عمر لڑکیوں سے نسبتا چھوٹی تھی۔
سائنسدانوں کا کہنا یہ بھی ہے کہ کروموسوم کے حفاظتی کیپ تلومر کی لمبائی کم ہونے کو بڑھتی عمر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ تجربے سے یہ معلوم ہوا کہ ڈپریشن کا شکار لڑکیوں میں تلومر کی لمبائی اتنی چھوٹی ہوتی ہےکہ جتنی ایک بالغ انسان کی زندگی کے چھ برس گذر جانے پر کم ہوتی ہے۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جسم میں اسٹریس یا دباؤ کے ہارمون کارٹی سول کا زیادہ مقدار میں اخراج ہمارے جسمانی اعضاء، مدافعتی نظام اور دماغ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔اسٹین فورڈ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے پروفیسر(این گوبلب) نے کہا کہ، تحقیق سے جو نتیجہ ہمارے سامنے آیا وہ بہت حیران کن تھا کیونکہ یہاں ظاہر ہونے والا تلومر کا قصر ایک بالغ کے چھ برس کی حیاتیاتی عمر کےبلکل برابر ہے۔ ڈپریشن کے شکار بچوں پر تلومر کی لمبائی کی پیمائش کا تجربہ اس سے پہلے کبھی نہیں کیا گیا ہے۔ اس لیے واضح طور پر نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کیا واقعی یہ قصر ان کی زندگی میں مزید چھ سال کا اضافہ کرسکتا ہے اور انھیں ۱۸سال کا بناسکتا ہے۔سائنسدان کے بقول کروموزومز کے آخری حفاظتی سرے تلومر پر بار خلیات کے تقسیم در تقسیم عمل کے دوران تھوڑا چھوٹا ہو جاتا ہے یا دباؤ کے نتیجے میں بھی تلومر کی لمبائی کم ہو جاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس تلومر کی لمبائی ہماری حیاتیاتی عمر کو ظاہر کرتی ہے جو کہ بالغ ہونے کے ساتھ کم ہوتی جاتی ہے۔پچھلے بہت سے مطالعوں میں چھوٹے تلومر یا تبدیل شدہ تلومر اور قبل از وقت موت، انفیکشن اور دائمی امراض اور تناؤ کے درمیان تعلق کے اتفاقی روابط پائے گئے ہیں۔سانسدانوں کا کہنا ہے کہ تلومر کا چھوٹا پن کسی خرابی پیدا کرنے والے مرض کے بڑھتے ہوئے خطرے کو پیش کرنے والا انوکھا سگنل ہے۔ تحقیق کارواں نے تجربے کے لیے ۱۴برس کی ۱۰صحت مند لڑکیوں کو گروپ میں شامل کیا جن کے خاندان میں ڈپریشن موجود تھا۔ جبکہ ان کے تلومر سے متعلقہ اعدادوشمار کا موازنہ صحت تندرست لڑکیوں کے ڈیٹا کے ساتھ کیا گیا جن کے خاندان کے بارے میں سائنسدانوں کو کوئی علم نہیں تھا۔تحقیقیقی ٹیم نے شرکاء میں ڈپریشن ٹیسٹ کے ردعمل کی جانچ پڑتال کے دوران اسٹریس ہارمون کارٹی سول کی سطح اور تلومر کی لمبائی ناپنے کے لیے لڑکیوں کے ڈی این اے کے نمونوں کا بھی تجزیہ کیا گیا۔سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ تجربے کے کہ بظاہر تندرست مگر افسردگی کا شکار ۱۲برس کی لڑکیوں میں واضح طور پر کروموسوم کے حفاظتی سرے تلومر چھوٹے تھے جسے وقت سے پہلے بڑی عمر کی ایک نشانی سمجھا جا سکتا تھا، تاہم انھوں نے کہا کہ روزانہ ورزش نوجوانوں میں تلومر کے قصر کو موخر کرنے کے لیے مددگار ثابت ہوئی ہے۔ لہذا مایوسی اور افسردگی کا شکار لڑکیوں کو چاہیے کہ وہ روزانہ ورزش کو معمول بنائیں۔ اس کے علاوہ لمبے عرصے کے ڈپریشن سے چھٹکارہ پانے کے لیے انھیں مختلف طیریقے سیکھنے چاہیئں۔

Comments
Post a Comment