خشخاش کے بیج سیاہ اور سفید دو اقسام کے ہوتے ہیں لیکن عام طور پر اسکا سفید بیج زیادہ تر استعمال ہوتا ہے-یہ مختلیف ٹوٹکوں اور عموماً مختلف پکوانوں میں استعمال کی جاتی ہے۔ خاص طور پر کوفتے جیسا مشہور سالن تو خشخاش کے بغیر ادھورا ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پیسٹری اور ڈبل روٹی کی تیاری اور دوسری بہت ساری میٹھی ڈشز میں بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔ کھانوں میں استعمال کے ساتھ ساتھ اس کے طبی فوائد بھی حاصل کیے جاتے ہی اس میں صحت بخش اجزاء جیسے میگنیشیم، میگنیز، آیوڈین، زنک، تھیامن، فولیٹ، کیلشیم ، آئرن، فاسفورس ، اومیگاتھری فیٹی ایسڈ اور فائبر پائے جاتے ہیں۔اینٹی انفلیمیشن خصوصیات کے باعث دیگر بیماریوں میں بھی مفید ثابت ہوتی ہے، خشخاش کا تیل بھی نکالا جاتا ہے جس کے لگانے سے درد جلد ٹھیک ہوجاتا ہے
خشک جلد سے نجات کے لئے اگر خشخاش کو پیس کر اس میں دودھ اور شہد یا پھر خالی دہی ملا کر جلد پر ہفتے میں لگائیں تو جلد نرم وملائم ہوجاتی ہے۔خونی قبض کے لیے بھی خشخاش کا استمال نہایت مفید ہے، خشخاش اور تربوز کے بیج ہم وزن لے کر پیس کر رکھ لیں رات سونے سے آدھے گھنٹے پہلے دودھ کے ساتھ ایک چمچ کھالیں ،خشخاش کے پاؤڈر میں چند قطرے لیموں کا رس اور حسب ضرورت پانی ملاکر لگانے سے خارش ٹھیک ہوجاتی ہے،خشخاش کا حریرہ دماغی صحت کے لئے بے حد مفید ہے لیکن اگر اسے بادام کے ساتھ پیس کر استعمال کیا جائے تو اس کا اثر انسانی صحت پر مزید بڑھ جاتا ہے،اومیگا تھری فیٹی ایسڈ خشخاش میں پائے جاتے ہیں جو وزن کو گھٹانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اسی لئے روزمرہ اس کے استعمال سے آپ وزن میں نمایاں کمی کرسکتے ہیں،خشخاش کو پیس کر پانی ملا کر پیسٹ بنا کر پیشانی پر لگائیں تو گرمی سے ہونے والا سردرد دور ہوجاتا ہے،سر کی خشکی جو کہ مرد اور خوتین کا ایک اہم مسئلہ ہے کیونکہ اس کے باعث بال جھڑنے کا عمل بھی تیز ہوجاتا ہے، اس کے لئے خشخاش کو پیس کر دہی ملا کر اسکیلپ پر لگانے سے سر کی خشکی دور ہوجاتی ہے،خشخاش کو پانی میں پکا کر اس پانی سے سینکائی کرنے سے آنکھ اور کان کا درد ہوجاتا ہے، خشخاش کو پانی میں پکا کر ایک چٹکی نمک ملا کر جوشاندہ تیار کریں اور ٹھنڈا ہونے پر چھان کر پی لیں اس سے نزلہ اور کھانسی ٹھیک ہوجاتی ہے، خشخاش جوڑوں کے درد کو دور کرنے میں مفید ہے اس کا تیل لگانے سے بھی جوڑوں کے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔

Comments
Post a Comment