اپنی نیند پوری نہ کرنا انسان کے لئے سب سے بڑی بیماری ہے جو مزید بیماریوں کو جنم دیتا ہے. اکثر شہر میں رہنے والے لوگ اپنی نیند پوری نہیں کرتے وہ اکثر پانچ سے چھ گھنٹے سوتے ہیں اور پورا دن کام کرتے ہیں اور رات کو موبائل یا لیپ ٹاپ کا استعمال کرتے ہیں. جس کی وجہ سے وہ ٹائم سے نہیں سوتے ہیں.نیند پوری نہ ہونا آپ کو بڑی مصیبت میں ڈال دیتا ہے. کچھ راتوں کی نیند خراب کرنے کی وجہ سے ہمارے بلڈ میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس سے ہم اپنی خوراک سے کچھ زیادہ کھانا کھاتے ہیں،اور اس کی وجہ سے ہماری ڈی این اے پر برا اثر ہوتا ہے. ڈاکٹر سائمن آرچر نے کہا ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے کچھ سال پہلے ایک تجر بہ کیا جس میں موجود لوگوں کو کہا گیا کہ وہ ایک ہفتہ اپنی نیند میں سے ایک گھنٹہ کم کریں. انہوں نے ایسا ہی کیا اور ان کی صحت پر وہی اثرات مرتب ہوئے جو تحقیق سے سامنے آئے تھے. تو واضح ہوا کہ ہماری نیند پوری نہ کی وجہ سے ہماری صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے.
اسکے علاوہ ایک اور تجربہ کیا گیا جس میں آٹھ گھنٹے پوری کرنے والے افراد کو شامل کیا گیا جن کے ساتھ مختلف آلات لگائے گئے جن سے ان کی نیند کا اندازہ لگایا جا سکے. ان کی نیند کو پہلے تین دن آٹھ گھنٹے بغیر کسی آڑ اور رکاوٹ کے پورا کیا گیا. اور اگلے تین دن چار گھنٹے سونے دیا.اور پھر ان کی روز کی حرکات و سکنات اور ان کو سوالنامے کو حل کرنے کا کہا گیا کہ ان میں کیا تبدیلیاں آئیں. ڈاکٹرز ان کے رویے میں اس قدر تبدیلی دیکھ کر حیران ہوئے کہ نہ سونے سے کس قدر حالت خراب ہوتی ہے. ان لوگوں میں ذہنی دباؤ، اضطراب اور مایوسی بڑھ گئی اور لوگوں پر عدم اعتماد بھی بڑھ گیا. ان میں سے کچھ لوگ ایسے تھے جن پر یہ تحقیق اثر انداز نہ ہوئی. ان کا کہنا تھا کہ وہ ٹھیک ہیں مگر وہ ذہنی طور پر بہت سے مسائل کا شکار ہو رہے تھے. یونیورسٹی آف آکسفرڈ میں کلینکل سائیکالوجی کے ایک پروفیسر نے کہا کہ اس یہ بھی پتہ چلا ہے کہ نیند خراب ہونے کی وجہ سے ان کے اندر منفی سوچ کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور یہ ہر بات کو منفی انداز میں سوچ لیتے ہیں. یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں سائیکالوجی کے ایک پروفیسر نوربٹ شوائز نے تحقیق کا نتیجہ کچھ یہ نکالا کہ 'سالانہ آمدن میں 60 ہزار ڈالر کا اضافہ روزانہ اتنی خوشی نہیں دیتا جتنی کہ رات کو ایک گھنٹے کی اضافی نیند، تو آپ کو چاہئے کہ اپنی نیند کو پورا کریں کیونکہ یہ آپ کے لئے پیسے اور باقی چیزوں سے زیادہ بڑھ کے ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی ایک رات میں تین میں سے ایک شخص کی نیند خراب ہوتی ہے اور ان میں سے چند بے خوابی سے لڑ رہے ہوتے ہیں. مگر کچھ لوگ اس پر کنٹرول کرتے ہیں پھر بھی وہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں جو ہمارے لئے ٹھیک نہیں ہے. ہمیں اس بات کو سوچنا چاہئے کہ ہمارے اس رویے سے ہماری فیملی بری طرح متاثر ہوتی ہے. اسلئے ہمیں چاہئے کہ نیند پوری کریں اور اور منا سب اوقات کام کرنے کیلئے رکھیں.

Comments
Post a Comment