عاصم جوفا برانڈ کے مالک عاصم! خدمت خلق کی مثال( 48 گھنٹوں میں کرونا وائرس سے لڑنے والے ڈاکٹروں کے لیے حفاظتی لباس تیار کر کے لوگوں کے دل جیت لیے)
عاصم جوفا جو کہ فیشن انڈسٹری کی جانی پہچانی شخصیت ہے جس نے حال ہی میں انسانی ہمدردی کی ایک عظیم مثال قائم کر کے دنیا کو یہ ثابت کیا ہے ملک پر ہر مشکل گھڑی میں وہ ہمیشہ ساتھ رہیں گے اور اپنی خدمات سر انجام دیتے رہیں گے- ہمارا ملک بلکہ پو ری دنیا اس وقت کرونا وائرس جیسے مرض کی وجہ سے تباہی کے جس دہانے پر کھڑی ہے اس کا اندازہ تو آپ سبھی کو ہے ہمارا ملک پاکستان تو ایک غریب ملک ہے یہاں بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک اس وبا کے آگے بے بس اور لاچار ہیں یہاں تک کہ امریکہ اپنے آپ کو سپر پاور مانتا ہے جس کے پاس اس وقت مریضوں کیلئے بیڈزکی شدید کمی کی خبر سامنے آئی ہے - پاکستان میں رہنے والی پاپولیشن زیادہ تر پڑھی لکھی نہیں ہے لوگوں کو اب تک اس مرض سے مکمل آگاہی نہیں ہے اور فرق یہ ہے کہ باقی ممالک صرف اس وبا سے لڑ رہے ہیں مگر ہم وبا کے ساتھ غربت کا بھی مقابلہ کر رہے ہیں
،جہاں غربت ہے وہاں ہمارے ملک میں کچھ ایسی شخصیات بھی ہیں جو نہ کہ عوام کو آگاہی بلکہ صدقہ جاریہ سمجھ کر لوگوں کی امداد میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں. عاصم جوفا بھی پیچھے نہ رہے اور فرشتہ صفت انسانوں کی مدد کر نے کے لیے میدان میں آگے آئے جو اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ موجود تھے اپنوں سے دور یہ لوگ اپنے بارے میں نہیں سوچ رہے تھے اور مسلسل مریضوں کی عیادت کر رہے تھے. ہسپتالوں میں ان مریضوں کے علاج کیلئے مکمل حفاظت کی ضرورت تھی مگر پاکستان میں اس سےلڑنے کیلئے کوئی حفاظتی لباس تک موجود نہیں تھے جس کے پیش نظر بہت سے ڈاکٹرز بھی علاج کرتے ہوئے اس جان لیو وبا کرونا وائرس کا شکار ہو گئے اس مصیبت کی گھڑی میں عاصم جوفا نے ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق سیفٹی سوٹس تیار کئے جن میں ان کو کامیابی حاصل ہوئی ،یوں عاصم جوفا نے اپنی ٹیم کے باہمی تعاون سے معاشرے کی خدمت میں اپنا اہم کردار ادا کیا. انہوں نے 48 گھنٹوں بعد میڈیکل سوٹس کے تیار ہونے کی خبر سوشل کر دی جس میڈیکل سوٹ کو (جے پی ایم سی) اگزیکٹو ڈائریکٹر سیمن جمالی نے منظور کر دیا. اس میڈیکل سوٹ کو تین حفاظتی تہوں میں تقسیم کر کے جدید طریقوں سے سیل کیا گیا جو کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو ہر قسم کے ماحول میں جراثیم سے پاک رکھے سکتا ہے ،لوگوں نے ان کے خدمت خلق کے کام کو سراہتے ہوۓ انکے اس جزبے کو سوشل میڈیا پر بھرپور داد دی ہے.
،جہاں غربت ہے وہاں ہمارے ملک میں کچھ ایسی شخصیات بھی ہیں جو نہ کہ عوام کو آگاہی بلکہ صدقہ جاریہ سمجھ کر لوگوں کی امداد میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں. عاصم جوفا بھی پیچھے نہ رہے اور فرشتہ صفت انسانوں کی مدد کر نے کے لیے میدان میں آگے آئے جو اپنا سب کچھ داؤ پر لگا کر ہسپتالوں میں مریضوں کے ساتھ موجود تھے اپنوں سے دور یہ لوگ اپنے بارے میں نہیں سوچ رہے تھے اور مسلسل مریضوں کی عیادت کر رہے تھے. ہسپتالوں میں ان مریضوں کے علاج کیلئے مکمل حفاظت کی ضرورت تھی مگر پاکستان میں اس سےلڑنے کیلئے کوئی حفاظتی لباس تک موجود نہیں تھے جس کے پیش نظر بہت سے ڈاکٹرز بھی علاج کرتے ہوئے اس جان لیو وبا کرونا وائرس کا شکار ہو گئے اس مصیبت کی گھڑی میں عاصم جوفا نے ڈاکٹرز کی ہدایات کے مطابق سیفٹی سوٹس تیار کئے جن میں ان کو کامیابی حاصل ہوئی ،یوں عاصم جوفا نے اپنی ٹیم کے باہمی تعاون سے معاشرے کی خدمت میں اپنا اہم کردار ادا کیا. انہوں نے 48 گھنٹوں بعد میڈیکل سوٹس کے تیار ہونے کی خبر سوشل کر دی جس میڈیکل سوٹ کو (جے پی ایم سی) اگزیکٹو ڈائریکٹر سیمن جمالی نے منظور کر دیا. اس میڈیکل سوٹ کو تین حفاظتی تہوں میں تقسیم کر کے جدید طریقوں سے سیل کیا گیا جو کہ ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل سٹاف کو ہر قسم کے ماحول میں جراثیم سے پاک رکھے سکتا ہے ،لوگوں نے ان کے خدمت خلق کے کام کو سراہتے ہوۓ انکے اس جزبے کو سوشل میڈیا پر بھرپور داد دی ہے.

Comments
Post a Comment