خوش کیسے رہا جائے تحقیق- خوش رہنا اور خوش رکھنا صحت اور تندرستی کی علامت ہے اور وہ کیسے رہ سکتے ہیں ضرور جانیں:
اپنی روزمرہ زندگی میں بہت ساری مشکلوں سے دوچار ہوتے ہیں ہاں امیر اور غریب لوگوں کی مشکلات مختلف ہو سکتی ہیں مگر یہ کہنا جھوٹ ہے کہ امیر لوگوں کی زندگی میں کوئی پریشانی نہیں یہ کہنا بلکل بے وجہ ہے ۔ہم امیر لوگوں سے متاثر ہو کر بہت ساری چیزوں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں ہم دن رات ٹینشن میں گزارتے ہیں مگر تسلی نہیں ہوتی ہم اسی ٹینشن میں کہ امیر ہونا ہے اپنی فیملی اپنے پیاروں سے دور ہونا شروع ہو جاتے ہیں حالانکہ ہماری اصل خوشی کی وجہ ہمارے چاہنے والے ہمارے بہن بھائی اور اہل خانہ ہیں یہ نہیں کہا جا رہا کہ محنت نہ کریں ضرور کریں مگر اپنی فیملی کو کبھی اگنور نہ کریں کیونکہ ہم بعض اوقات اسی چکر میں اتنا دور ہو جاتے ہیں کہ ہمارے بچے ہم سے ملنا بھول جاتے ہیں وہ ہم سے فاضلہ اختیار کر جاتے ہیں وہ اپنی کوئی بھی بات شیئر نہیں کرتے حتیٰ کہ وہ اپنی زندگی کے اہم فیصلوں میں رائے لینا ضروری نہیں سمجھتے خوش رہنے کے چند اصول ہیں جو ہمیں اپنانے چاہیئں،جو ہماری زندگی میں ہمیں خوش رہنے کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے پیاروں سے جوڑے رکھتے ہیں۔اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم اپنی پریشانیوں کو اپنے اوپر حاوی نہ کریں اپنی پریشانیوں کا ذکر بار بار نہ کریں۔
ایک تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہم جب بھی پر اعتماد نہیں ہوتے تو ہم ڈپریشن میں جاتے ہیں جلدی غصہ کرنے لگتے ہیں اور ہم اپنے رویے میں تبدیلی لاتے ہیں جو ہمارے لئے شکایت کا سبب بنتی ہے جس سے ہم مزید ڈپریشن میں جاتے ہیں کہ ہم یہ کیوں کر رہے ہیں۔تو اپنی پریشانی کو اپنے اوپر حاوی کرنے سے یا اس کا ذکر بار بار کرنے سے گریز کریں ۔ ہمیں چاہئے کہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کی شکایت نہ کریں کیونکہ یہ ہماری عادت کو بدل دیتی ہیں پھر ہم چھوٹی سے چھوٹی بات پر اچھا خاصا رویہ بدلنے کے عادی ہو جاتے ہیں جو کبھی کبھی ہمارے لئے بھی حیران کن ہوتا ہے اور ہم بعض اوقات پچھتاتے بھی ہیں ۔ پھر ہم لوگوں کی شکایتوں سے پریشان ہوتے ہیں جس سے ہم سوچنے پر مج بور ہو جاتے ہیں اور خود کو قصور وار سمجھنے لگتے ہیں ۔ہمیں لوگوں نہ شکایت کا موقع دینا چاہئے نہ ہی شکایت کی عادت ڈالنی چاہئے۔ ڈاکٹر ونچ(پی ایچ ڈی) جنہوں نے سائیجکلوجی کے ایک انٹر ویو میں کہا،انسان کی نفسیات کی ایک ایسی پوزیشن بھی ہے جس میں کیا واقع ہوتا ہے جب لوگ اس بات پر یقین کر لیتے ہیں کہ ان کا گردو نواح یا آس پاس کے حالت پر اس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے جسے بے یارو مدد گاری بھی کہہ سکتے ہیں انسان محسوس کرتا ہے ۔مگر جب ہم اس بات سے متفق ہوتے ہیں کہ ہماری حرکات سے ہماری خواہشات پر کوئی اثر نہیں ہو گا ،تو ہم لاچار ہو جائیں کوئی کام نہ کریں اور بے یارو مدد گار ہو کر بیٹھ جائیں۔ڈاکٹر ونچ کا کہنا ہے اس قسم کی سوچ میں بلکل نہ پڑیں اپنے منفی رویے کی مزید سیڑھیاں نہ چڑھتے جائیں اپنے اوپر بخشی جانے والی رحمتوں کو نہ بھولیں۔انہوں نے کہا شکر ادا کرنے سے یا اس کا ذکر کرنے سے آپکی خوشی میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔لہزا شکر کا اور صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہ دی،یہی دائمی خوشی ہے اور اللّٰہ کے نزدیک بھی شکر کرنے والے لوگوں کا مقام الگ ہے۔

Comments
Post a Comment